اسرائیلی فوج کی جنوبی شام میں نئی دراندازی، قنیطرہ میں چار افراد حراست میں
شامی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج ہفتے کے روز قنیطرہ کے کئی علاقوں اور مغربی درعا میں داخل ہوئی، گھروں کی تلاشی لی اور چار افراد کو حراست میں لیا، جن میں سے ایک کو بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔

دمشق — اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز جنوبی شام میں نئی دراندازیاں کیں، قنیطرہ صوبے میں چار افراد کو حراست میں لیا اور مغربی درعا میں پیش قدمی کی، جیسا کہ شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی SANA نے بتایا اور عرب نیوز نے رپورٹ کیا۔
SANA کے مطابق فوجی گاڑیاں قنیطرہ کے کئی علاقوں میں داخل ہوئیں، شہریوں کے گھروں کی تلاشی لی گئی اور زرعی زمین کی طرف جانے والے افراد کو حراست میں لیا گیا۔ زینگا نیوز کی زیر جائزہ مواد میں اسرائیلی فوج کا کوئی تبصرہ شامل نہیں ہے۔
شمالی قنیطرہ کے دیہی علاقے میں، SANA کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی گاڑیاں ترنجہ گاؤں کے مغرب کی طرف بڑھیں۔ گاؤں کے مغرب میں زرعی زمین کی طرف چلتے ہوئے دو افراد کو حراست میں لیا گیا۔
جنوبی دیہی علاقے میں 10 سے زائد گاڑیوں پر مشتمل ایک فورس الرزانیہ اور ابو مدحرہ کے فارم علاقوں میں داخل ہوئی۔ اسی رپورٹ کے مطابق اس فورس نے کئی گھروں کی تلاشی لی اور دو افراد کو حراست میں لیا۔ ایک کو کئی گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا، اور اس کے بعد فورس واپس چلی گئی۔
الگ سے، SANA کے مطابق مغربی درعا کے دیہی علاقے میں وادی الرقد میں دو اسرائیلی فوجی گاڑیاں داخل ہوئیں۔ اس نے مزید کہا کہ اسرائیلی جاسوس طیارے مغربی یرموک طاس کے اوپر پرواز کرتے رہے۔
پہلے کے واقعات
یہ دراندازیاں جمعہ کو قنیطرہ میں الرزانیہ فارم کے مغرب میں ایک علاقے میں اسرائیلی پیش قدمی کے بعد ہوئیں، جیسا کہ عرب نیوز نے SANA کے حوالے سے بتایا۔ اسرائیلی فوج نے چرواہوں کو اپنے مویشی چرانے سے روکنے کے لیے ان پر فائر کیا، پھر واپس چلی گئی۔
SANA نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج اس سے پہلے مغربی درعا کے یرموک طاس علاقے میں واقع قصبے عبدین میں داخل ہوئی اور اسے گھیر لیا۔
الجزیرہ... (اس کی جگہ) العربیہ نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی شام میں زمین پر بلڈوزر چلائے اور رہائشیوں کی آمد و رفت روکنے کے لیے ایک چوکی قائم کی۔ یہ پوسٹ غیر تصدیق شدہ ہے، اور دستیاب مواد میں مقام یا تاریخ کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
ردعمل
عرب نیوز کے مطابق اسرائیل نے قنیطرہ میں اس کے بقول "سوفا 53 لائن" کے ساتھ مٹی کے کام میں توسیع کی ہے۔ اس کام میں علاقۂ علیحدگی کی لکیر کے قریب شامی علاقے کے اندر مٹی کے پشتے بڑے کرنا اور خندقیں کھودنا شامل ہے۔
عرب نیوز کے مطابق قطر، اردن اور کویت نے اس منصوبے کی مذمت کی ہے۔ تینوں ممالک نے 1974 کے معاہدۂ علیحدگی پر عمل درآمد کرانے اور اسرائیل کو شامی سرزمین پر قبضہ ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شامی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ یہ تعمیراتی کام اور جاری اسرائیلی فوجی کارروائیاں معاہدے اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزارت نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
پس منظر
1974 کے معاہدے نے 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیلی اور شامی کنٹرول والے علاقوں کے درمیان جنگ بندی اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں علیحدگی کے علاقے کا قیام کیا تھا۔
عرب نیوز نے تازہ واقعات کو جنوبی شام کے اندر اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کے مسلسل سلسلے کا حصہ قرار دیا ہے۔ اس میں دیہاتوں اور زرعی زمینوں میں دراندازی، گھروں پر چھاپے، حراستیں، زمین کی صفائی اور گولہ باری شامل بتائی گئی ہے۔
شام نے بارہا اسرائیلی فوج سے اپنی سرزمین خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دمشق کا کہنا ہے کہ وہاں اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت کالعدم ہیں۔ اس نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو جنوبی شام سے مکمل انخلا پر مجبور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ہفتے کے واقعات کی تفصیلات شامی سرکاری میڈیا سے آئی ہیں۔ زینگا نیوز انہیں آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 18 اکتوبر، 2026Syrian finance minister discusses economic cooperation with Qatari counterpart in Bangkok
- 18 اکتوبر، 2026اسرائیلی فوج کی جنوبی شام میں نئی دراندازی، قنیطرہ میں چار افراد حراست میں
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟